رموز سلطنت
معنی
١ - حکمرانی کے بھید، نکتے، قواعدو ضوابط۔ "کمال یہ ہوا کہ باوجود یہ سب کچھ ہونے کے کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ مکھیاں کیوں اڑیں اور کس نے اڑائیں۔ یہ رموز سلطنت تھے۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٣:٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'رموز' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر عربی اسم 'سلطنت' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٧ء کو "مضامین فرحت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حکمرانی کے بھید، نکتے، قواعدو ضوابط۔ "کمال یہ ہوا کہ باوجود یہ سب کچھ ہونے کے کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ مکھیاں کیوں اڑیں اور کس نے اڑائیں۔ یہ رموز سلطنت تھے۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٣:٤ )